ارطغرل ڈراما ديکھنا جائز ہے يا ناجائز ؟
Ertughal Darama

ارطغرل ڈراما ديکھنا جائز ہے يا ناجائز ؟

آج کل جس طرح بيشتر مسلم ناظرين ميں اس ڈرامہ کے تئيں دلچسپی و مقبولیت بڑھتی جارہی ہے ٹھيک اسی طرح "ألف ليله ہزار داستان” "بغداد کا چور” جيسے سيريلوں اور "ألرساله” "يوسف” اور ” غلام مصطفیٰ” جيسی فلموں کے لئے بھی کبھی يہ ديوانگی اپنےعروج پر تھی، لوگ تب بھی انکے گن گان کرتے، انہیں حميت دينی کو پروان چڑھانے اور اسلاف کے کارہائے نماياں سے واقفیت حاصل کرنے کا ایک بہترین ذريعہ تصور کرتے تھے،
ليکن کیا يہ حقيقت ہے ؟
کيا صحيح معنوں ميں اپنے عہد رفتہ سے واقفیت کا بس يہی ايک ذريعہ رہ گياہے ؟
اور سب سے اہم سوال کہ کيا ان ڈراموں کو ديکھنا جائز ہے ؟
قبل اس کے کہ اسکا جواب ديا جائے ذرا اس حقيقت پر بھی نظر کريں کہ اس طرح کے جواز و عدم جواز کے فتوے يا إستفتاء نہ تو کوئی بالی ووڈ يا ہالی ووڈ کے حيا سوز ڈراموں، فلموں اور گانوں کے بارے ميں کرتا ہے اور نہ ہی کسی جواب يا وضاحت کی ضرورت پڑتی ہے کيونکہ انکی قباحت مسلم ہے ،
اب بات آتی ہے ان نام نہاد اسلامی ڈراموں اور فلموں کی تو يہ جان ليں کہ يہ کتنے ہی اسلامی کيوں نہ ہوں پر کسی نہ کسی درجہ میں يہ ” لهوالحديث” ميں شامل اور داخل ہیں، کيونکہ ہر اس چيز پر "لهوالحديث ” کا اطلاق ہوسکتا اور ہوتا ہے جو انسان کو ياد خداوندی اور عبادت الٰہی سے غافل کردے – خواہ وہ چيز گانا بجانا ہو ، دلچسپ ناول ہو ، دلکش ڈرامے ہوں يا فلم بينی ہو ؛
لہٰذا آپ اگر دیانتداری سے ديکھيں تو پائيں گے کہ نہایت صوم و صلوة کا پابند شخص بھی ان ڈراموں کے ذريعہ حرارت اسلامی کو بڑھانے اور حميت ايمانی کو بھڑکانے کے چکر میں بسا اوقات جماعت کی نماز سے اور ديگر نيک اعمال سے پچھڑ جاتا ھے،

ور اگر کبھی درميان ميں نماز کے لئے جی کڑا کرکے وقت سے پہونچ بھی جائيں تو جتنی جلدی پہونچنے میں ہوتی اس سے بھی جلدی نکلنے کی ہوتی ہے ، اور دوران نماز کیا کيفيت رہتی ہے يہ تو اللہ ہی بہتر جانے ؛
لہٰذا ان سارے تجزیات اور تجربات کے باوجود "ارطغرل غازی” يا اس جيسے ڈراموں اور فلموں کے جواز کی راہيں تلاشنا بلاشبہ احمقانہ اور غير منصفانہ عمل ہے ؛
ہاں البتہ اگر بات مخرب الاخلاق و حياسوز ڈراموں اور فلموں سے موازنہ کی ہو تو بلاشبہ انکے مقابلہ میں يہ نام نہاد اسلامی ڈرامے بدرجہا بہتر ہيں، ليکن انہیں افراد کے لئے جو انکے عادی اور اس راہ کے پرانے راہی ہیں ،
نئے افراد کے لئے يہ اسلامی ڈرامے بھی شجر ممنوعہ ہيں کيونکہ اسکرين کی يہ متحرک دنيا کسی دلدلی علاقے سے کم نہیں ، اس میں جانا تو آسان ہے پر نکلنا بڑا مشکل ، اسی لئے عافيت اسی میں ہے کہ انسان ايسے شوقوں سے اپنے کو بہرحال بچائے،
تاکہ کل کو بصد افسوس يہ نہ کہنا پڑے کہ
اس کی گلی میں غش جو آيا، آسکے نہ ہم
پھر ہوچکے وہيں کے کہيں جاسکے نہ ہم
اور
بقول غالب: ہاں وہ نہیں وفا پرست، جاؤ وہ بے وفا صحيح
جس کو ہو جان و دل عزيز اس کی گلی میں جائے کيوں؟
اب اخير میں يہ سوال پيدا ہوتا ہے کہ پھر ہم اپنے عہدہ رفتہ اور تابناک تاریخ سے کيسے آشنا ہوں تو اسکا طريقہ يہی ہيکہ آپ بھی سيدھےوہی طريقہ اپنائيں جو "محمد بوزداغ”( ارطغرل غازی کے تخليق کار) نے اپنايا يعنی”ذاتی مطالعہ”، يہ طريقہ گرچہ بظاہر غير دلچسپ ہے ليکن انتہائی قابل اطمنان، فائدہ بخش اور آپ کی خوابيدہ صلاحيات کو بيدار و مہميز کرنے کا باعث ہے.

sidhirah

I am Naseh Anwaar Nadwi, Islmaic Scholar at Madarsa Tajweedul Qur'an Khairwa Bihar, Youtuber, and founder of Sidhi Rah.com This is a digital islamic Library, in which we upload islamic videos and audios and books, so that people could get good things very easily.

جواب دیں