تاریخِ پلاسمنی

تاریخِ پلاسمنی

“یہ تاریخ ھے ایک ایسے گاؤں کی جس کے بارے میں کہاوت مشہور تھی کہ“ وہاں کی 🐓 مرغیاں بھی فارسی بولتی ہیں

ملک ہندوستان،صوبہ بہار کے ضلع کشن گنج سے تقریباً 26کیلو میٹر اتر پچھم کی مسافت پر ایک بےحد مردم خیز اور خوبصورت گاؤں ہے جسکا نام“پلاسمنی”ہے، یہ ایک مسلم آبادی والا گاؤں ہے، یہاں کے لوگ ابھی بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ اور نہایت مہذب و مؤدب مانے جاتے ہیں؛
یہاں کی زرخیز سرزمین نے ملک کو ایک سے سے بڑھ کر ایک منشی، شاعر، ادیب، انشاءپرداز، قانون داں، ڈاکٹر،انجینئر اور آئی اے ایس افسر دیے ہیں، یہاں کی اتالیقی ، زباندانی، اور تہذیب و تمدن کا لوگ لوہا مانتے تھے، اور اپنے بچوں کو تعلیم و تربیت کے لیے بصد اصرار یہاں کے منشیوں کے پاس بھیجنے میں خوشی و فخر محسوس کرتے تھے؛
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ علاقے میں جب لوگ عموماً غریب، مفلوک الحال اور ان پڑھ و جاہل ہوا کرتے تھے تو اس قحط الرجال کے دور میں یہ قابل رشک افراد آئے کہاں سے؟ یہ کون تھے؟

کیسے تھے؟ کہاں کے تھے؟؟؟

-:تو چلیے جانتے ہیں اس خانوادہ کی تاریخ کو

یہ بات ہے اس وقت کی جب ہندوستان میں انگریزی حکومت عروج پر تھی ،تب دہلی کی فوج میں شہاب الدین نامی ایک نہایت غیور، ذی ہوش اور دوراندیش فوجی افسر تھے جن کی نقل وحرکت سے تنگ آکر انگریزوں نے انہیں حکومت کا باغی قرار دے دیا، جب سارے راستے مسدود ہوگیے تو چار و ناچار وطن عزیز کو خیر آباد کہا اور جس سمت قدم اٹھے چل پڑے بلآخر”پلاسمنی”پہونچے، اس وقت یہ پورا علاقہ ضلع “پورنیہ” کا گھنا جنگل تھا، دہلی جیسی کوئی بھی سہولت نہ تھی، یہاں تک کہ کوئی مکتب بھی نہ تھا، کیونکہ یہ ایک علم دوست انسان تھے اسی لئے اپنے بیٹے کے لئے کسی اتالیق و معلم کی تلاش میں جناب وکیل قائم علی کے یہاں “ستال” بہادرگنج جاپہونچے،چونکہ انکی بیٹھک میں ایک “بڑدوانی” منشی جی رہتے تھے، انہوں نے وکیل صاحب سے درخواست کی کہ “میں ایک غریب وپردیسی آدمی ہوں اور اپنے بیٹے کو تعلیم دلانے کی خواہش رکھتا ہوں، ازراہِ کرم میرے بیٹے “فرنگی” کو خدمت کے لئے قبول فرمائیں تاکہ آپ کی خدمت اور منشی جی کی صحبت میں رہ کر یہ کچھ سیکھ جائے”، وکیل صاحب نے انکی بات مان کر “فرنگی” کو اپنے یہاں رہنے کی اجازت دے دی؛
یوں تو یہ وکیل صاحب کے گھر کے چھوٹے موٹے کام بھی کردیاتے تھے مگر ان کا اصل کام وکیل صاحب کے فائلز کو کچہری لے جانے و لانے اور فارغ اوقات میں منشی جی سے تعلیم حاصل کرنے کا تھا، اور خدا کی شان کہ یہ اپنی خداداد ذہانت سے کچھ ہی دنوں میں فارسی کے ماہر ہوگئے، ایک دفعہ یہ وکیل صاحب سے گھر آنے کی چھٹی لیکر گھر نہ آکر سیدھے بھاگلپور گئے اور وہاں جاکر امانتی امتحان دیا، جب ریزلٹ آیا تو کمشنری میں اول آئے، نتیجتاً وکیل صاحب نے انہیں کچہری میں منشی کا کام دلا دیا، کچھ عرصہ بعد وکالت کا امتحان دینے پھر بھاگلپور گئے،اور واپس آکر اپنے کام میں لگ گئے، جب گزٹ میں رزلٹس آئے تو کمشنری میں ایک دفعہ پھر سب سے اول تھے، “قائم وکیل”صاحب کو بےحد خوشی ہوئی، وہ انہیں اپنے گھر لے گئے اور اپنی اہلیہ سے کہا “آج سے یہ ‘فرنگی’ نہیں بلکہ ‘وکیل فرید بخش’ ہے، اب یہ ہمارے گھر کا کوئی کام نہیں کریگا”، وکیل صاحب کی اہلیہ بھی بےحد خوش ہوئیں اور فرط مسرت میں انہوں نے کل کے “فرنگی”اور آج کے “فرید بخش وکیل” کا بوسہ لیا؛
وکالت کرتے ہوئے ابھی کچھ ہی عرصہ ہوا تھا کہ کچہری کے’منصف’ کا اچانک انتقال ہوگیا، جب منصف کے عہدہ کے لئے وکیلوں میں انتخاب ہوا تو قدرت خداوندی سے ‘فرید بخش’ہی اس عہدہ کے لئےمنتخبہوئے، جبکہ ‘وکیل قائم علی صاحب’وکیل ہی رہ گئے، پورے عہدہ منصفی کے دوران کچہری کئی  جگہ منتقل ہوئی ابتداءً بھڑیا ڈانگی تقرری ہوئی  پھر کئی  اور جگہ؛ ایک دفعہ بہادرگنج کچہری کے تقرری کے عرصہ میں انہیں خبر ملی کہ انکے بھائی کو زمینوں کا خزانہ نہ چکا پانے کی وجہ سے بڑے زمیندار منیر سرکار کے سپاہی گرفتار کرلےگئے٬ لہذا فرید بخش فوراً بھاٹاباڑى دربا ر   میں  پہونچے٬وہاں جاکر پتہ چلا کہ بڑے سرکار شکار کے لئے باہر گئے ھیں٬ اور چونکہ انکے بھائی سپاہیوں سے مارپیٹ کرکے گھر بھاگ چکے تھے اسلئے بڑے سرکار کے صاحبزادے نے طیش میں آکر فرید بخش سے بدکلامی بھی کی اور انکی چادر بھی چھىن لی٬ کڑاکے کی سردی تھی اور چادر بھی چھین لی گئی تھى اس لئے مجبور و لاچار ہوکر آگ کی دھونی کے پاس بیٹھ کر بڑے سرکار کے شکار سے لوٹنے کا انتظار کرنے لگے٬ جوکہ تقریباً 12 بجے رات کو واپس آئے، آتے ہوئے انہوں نے آگ کی دھونى کے پاس ایک اجنبى اور اس کى بیچارگى کو دیکھا اور شدت کے ساتھ محسوس بھی کیا، استفسار حال پر جب پورے واقعہ کی خبر ھوئى تو نہایت غصہ مىں آکر بیٹے کو جگایا اور خوب لعن طعن کیا اور یہ بھى کہا کہ “آج جس شخص کو تم نے حقیر سمجھ کر ذلیل کیا ہے یہى شخص ایک دن تمہاری اور تمہارے خاندان کی عزت باعث ہوگا” ، چنانچہ خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ منیر سرکار کے بعد جب چھوٹے سرکار بر سر اقتدار آئے تو ان پر ایک خطرناک مقدّمہ پڑگیا اور اتفاق سے وہ مقدّمہ منصف فرید بخش کے پاس چلا گیا ، منصف صاحب نے معمول کے مطابق پوری باریک بینى و توجہ سے ایک ایک نکتہ اور پوائنٹ کو ملاحظہ کیا اور بالآخر چھوٹے سرکار کی توقع کے برخلاف تقریباً 145 صفحات پر مشتمل ججمنٹ لکھ کر انکو بری کر دیا,   قصہ مختصر یہ کہ بڑے سرکار نے فرنگى کے لئے بستر لگوایا ، کھانا کھلوایا اور ان سے ہوئى بدسلوکى کے لئے معذرت طلب کى صبح جب دربار لگا تو پہلا مقدّمہ فرنگى کا آيا، کل 9 روپے کاخزانہ باقى تھا   جو کہ تنگدستی کے باعث نہیں چکاسکے تھے، سرکار نے انکى مجبوری کو سمجھا اور نہ صرف يہ کہ انکا خزانہ معاف کردیا بلکہ تقریباً 145 بیگھا خزانہ معاف زمین اور ساتھ میں کھيتى باڑى کى سہولت کے پيش نظر ایک جھنڈ گائے،بيل،اور بھینسوں کا بھى انکو عطا کردیا

sidhirah

I am Naseh Anwaar Nadwi, Islmaic Scholar at Madarsa Tajweedul Qur'an Khairwa Bihar, Youtuber, and founder of Sidhi Rah.com This is a digital islamic Library, in which we upload islamic videos and audios and books, so that people could get good things very easily.

جواب دیں