جبری تصفيہ کے بعد اب کيا؟

جبری تصفيہ کے بعد اب کيا؟

بابری مسجد کا جس طرح 6 دسمبر 1992 عیسوی کو انہدام کیا گیا اور پھر کورٹ کے ذریعے اس کے رام مندر بن جانے کا راستہ صاف کیا گیا یہ چیز مسلمانوں کے لئے انتہائی باعث تشویش و افسوس ہے، لیکن قومی اور بین الاقوامی سطح پر مسلمان اس قدر بکھرے ہوئے، ضعیف اور کمزور ہیں کہ وہ کچھ بھی نہیں کر سکتے، مصرع مشہور ہے۔۔۔

ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات

لیکن مسلمانوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ جہاں ہم مسلمان ہار جاتے ہیں، وہاں مذہب اسلام جیت جاتا ہے، یہ ایک ایسی تاریخی سچائی ہے جس کا تجربہ کئی بار ہوچکا،
ہم جس مذہب اسلام اور جس نبی کریم ﷺ کو مانتے ہیں وہ دونوں اس قدر کامل و مکمل ہیں کہ ان کی تعلیمات و سیرت میں اس مسئلے کا بھی پائیدار حل موجود ہے،

ذرا غور کریں ! کعبہ میں 360 بت رکھ دیے گئے تھے کعبہ شرک و بت پرستی کا محور و مرکز بن چکا تھا‌، مگر کبھی آپ ﷺ نے براہ راست ان کو توڑنے ، گرانے یا مرحلہ اول ہی میں کعبہ پر قبضہ کا مسئلہ کھڑا نہیں کیا، بلکہ آپ ﷺ کی تمام تر توجہ اہل شرک کو اہل ایمان بنانے پر تھی، تاکہ کعبہ کی موجودہ شرکیہ حالت خود بے ضرورت ہو کر صفائی کا تقاضہ کرنے لگے،

12 ویں صدی عیسوی میں تاتاریوں کے عالم اسلام پر تباہ کن حملے کے بعد خود انہیں تاتاریوں کا مشرف باسلام ہو جانا، اسلام کی ناقابل تسخیر قوت کا منہ بولتا ثبوت ہے،

20 ویں صدی عیسوی میں دنیا بھر میں عموماً اور ترکی میں خصوصاً اسلام اور سیکولرزم کی طویل کشمکش کے بعد ترکی کا پھر سے مسلمان ہو جانا اسلام کی نظریاتی طاقت کا اظہار ہے،

ڈاکٹر ضیاء الرحمن اعظمی اعظم گڈھ کے قصبہ بلریا گنج میں ہندو گھرانے میں بانکے  رام کی صورت میں پیدا ہوئے، مولانا مودودی کی کتاب دین حق پڑھ کر اسلام قبول کیا، دارالسلام عمرآباد سے عالمیت و فضیلت کر کے اعلی تعلیم کیلئے مدینہ یونیورسٹی اور قاہرہ (مصر) چلے گئے، وہیں سے ماسٹرس اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کی اور کچھ سالوں بعد مدینہ یونیورسٹی میں پروفیسر ہوگئے، کئی سالوں سے مسجد نبوی ﷺ میں درس حدیث دیا کرتے تھے، بیسیوں کتابوں کے مصنف ہیں، آپ کی زندگی کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہیکہ کہ آپ نے تمام صحیح احادیث کو الجامع الکامل کی صورت میں ایک جگہ اکٹھا کر دیا، ایک غیر مسلم بانکے لال کو ضیاء الرحمن بننے سے روکنے کے لئے تمام مندر ، تمام پروہت ، تمام پنڈت ، تمام 33 کروڑ خدا ، کچھ نہ کرپائے،

پھر ہم تو اہل ایمان ہیں، ایک خدا کی عبادت کرنے والے ہیں، ایک رام مندر ہی ہمارے لئے قابل افسوس کیوں؟؟
زمینی سطح پر پھیلے ہوئے غیر اللہ کے تمام مراکز ہمارے لئے قابل افسوس کیوں نہیں؟؟
اور ہماری دعوتی سرگرمیوں کے لیے میدان عمل کیوں نہیں بنتے؟؟
عجیب بات ہے زمینی سطح پر پھیلے ہوئے لاکھوں کروڑوں غیراللہ کے مراکز ہماری ایمانی و توحیدی غیرت کو نہ جگا سکے، مگر رام مندر کے بن جانے پر ہم ماتم کناں ہیں؟؟

مسلمانوں کو چاہیے کہ رام مندر پر ماتم کرنا، حسرت و افسوس کرنا، اپنے آپ کو بے يار و مددگار سمجھنا بالکل بند کریں،
ہماری دعوتی سرگرمیوں کے لیے لاکھوں کروڑوں کی تعداد میں انسان موجود ہیں، ان انسانوں تک اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانا ہی ہماری اصل اور قابل گرفت ذمہ داری ہے، وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِّتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ (سورہ البقرہ آیت 143) لہذا پوری دیا نتداری و خوش اسلوبی کے ساتھ اپنی اس ذمہ داری کو نبھانے کی کوشش کریں،
اور اس حقيقت کو سمجھيں کہ اگر یہ تمام انسان موحد بن جائیں تو غیر اللہ کے تمام مراکز بشمول رام مندر کے، ازخود بے ضرورت ہو کر دفن ہو جائیں گے،

آج ہم مسلمان دعوت و تبلیغ کے معاملے میں حضرت سلیمان علیہ السلام کے ھدھد پرندے سے بھی گئے گزرے ہیں، اس نے غیر اللہ کی عبادت ہوتی دیکھی تو اپنی ذمہ داری ترک کر کے ان مشرکوں کی ٹوہ میں لگ گیا، کون ہیں ؟
کس کی عبادت کرتے ہیں؟
ان لوگوں کا بادشاہ کون ہے؟ واپس آ کر یہ تمام باتیں حضرت سلیمان علیہ السلام کو بتلائیں اور پھر پیغام سلیمانی لے کر وہاں پہنچا اور جب تک ملکہ بلقیس اور اہل سبا دائرہِ اسلام میں داخل نہیں ہوئے وہ اپنی محنت سے پیچھے نہیں ہٹا،

اب تمام مسلمانوں پر فرض ہے کہ اپنے مسلکی گورکھ دھندے بند کر کے خالص توحید کی دعوت کو عام کریں اور پوری طاقت سے کریں،
ایک رام مندر ہی ہمارے لئے پریشان کن نہیں،
بلکہ اصل پریشانی کفر و شرک کا وجود ہے اور یہ کفر و شرک خالص توحید کی دعوت سے ختم ہوگا، انسانوں کے ذہن و دماغ بدلنے سے ختم ہوگا، نہ کہ مندروں پر ماتم کرنے سے،
قیامت کے روز یہ سوال نہیں ہوگا کہ تم نے مندر کیوں بننے دیا؟
بلکہ سوال یہ ہوگا کہ تم نے اسلام کی دعوت کو عام کیوں نہیں کيا؟
یہ سوال ضرور ہوگا کہ تمہارے نبی کریم ﷺ نے 23 سال میں پہلے انسانوں کو بدلا، پھر کعبے کو ، تم نے یہ ترتیب کیسے الٹ دی؟
اور انسانوں کی فکر کيے بغیر ہی مندر پر ماتم کرنے کیوں لگے؟
مزید یہ کہ انسانوں کو بدلنے اور انہيں عملی و علمی دعوت دینے کا پلان و منصوبہ تو تمہارے ذہن و دماغ تھا ہی نہیں ،

یہ سچ ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کی موجودہ صورتحال کی جڑیں ہندوستان میں 800 سو سالہ طویل مسلم دور اقتدار کی غلط ترجیحات میں پیوست ہیں،
شورش کاشمیری نے بجا لکھا ہے کہ ” زمانۂ نبوی کی صحیح ترجیحات کی وجہ سے قاہرہ ہمیشہ کے لئے اسلام کا شہر بن گیا، لیکن بھارت میں طویل مسلم دور اقتدار کے بعد بھی دہلی ہمیشہ کے لیے اسلام کا شہر نہ بن سکا”،

یاد رکھئے ! اسلام کی نظریاتی طاقت کی پوری دنیا معترف ہے سوائے مسلمانوں کے،
اگر مسلمان پوری طاقت و منصوبہ بندی سے اسلام کی دعوت کو عام کریں تو کچھ بعید نہیں کہ بھارت میں غیر اللہ کے پھیلے ہوئے تمام مراکز، مرکز توحید بن جائیں، کیا کمال اتاترک نے 1934 عیسوی میں سوچا تھا کہ جس مسجد کو وہ میوزیم میں تبدیل کر رہا ہے، وہی مسجد 86 سال بعد پھر سے مسجد بن جائے گی؟
جس ترکی کو وہ سیکولر ترکی بنا رہا ہے وہی ترکی 86 سال بعد پھر سے اسلام پسندوں کے سایہ رحمت میں آجائے گا؟
مگر یاد رہے کہ یہ سب کچھ ترکی میں وہاں کے اسلام پسندوں کی خفیہ و علانیہ اور ہمہ جہت جہد مسلسل کا نتیجہ ہے، (تفصیل کیلئے دیکھئے ترک ناداں سے ترک دانا تک از مفتی ابولبابہ منصور صاحب)

خلافت عثمانیہ کے بعد اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے لئے ہمہ جہت کوششیں کی گئی ہیں، مختلف حضرات علماء کرام و حضرات مفکرین کرام نے الگ الگ میدانوں میں یہ کام انجام دیا،
مولانا وحیدالدین خان اور ابو الاعلیٰ مودودی رح نے اسلام کے احیاء ثانی کے لئے دعوتی میدان پر کافی روشنی ڈالی ہے، انکا 90 فیصد لٹریچر (جن میں بلاشبہ نظرياتی اختلافات کی گنجائش بھی ہے) اسی نقطہ نظر کو ثابت کرتا ہے کہ مسلمان، مخالفوں اور اسلام دشمنوں کی طرف سے کی جانے والی ہر قسم کی مکاریوں پر یکطرفہ صبر کریں اور دین اسلام کی دعوت کو ہر صورت میں مکمل طور پر عام کریں تاکہ انسانوں کی روح اور ذہن و دماغ بدلنے سے مادی خداؤں کی عبادت گاہیں خود بخود آثار قدیمہ بن کر نشان عبرت بن جائیں،اور یہی پائیدار حل بھی ہے،

sidhirah

I am Naseh Anwaar Nadwi, Islmaic Scholar at Madarsa Tajweedul Qur'an Khairwa Bihar, Youtuber, and founder of Sidhi Rah.com This is a digital islamic Library, in which we upload islamic videos and audios and books, so that people could get good things very easily.

جواب دیں