حالات حاضرہ اور عید الفطر

حالات حاضرہ اور عید الفطر

سب سے پہلے تو ہميں يہ بات ملحوظ رکھنی چاہئے کہ جمعہ کی نماز کی صحت کے لئے جو شرائط ہیں حضرات حنفیہ کے نزدیک عید کی نماز کی صحت کے لئے بھی وہی شرائط ہیں، نیز عید کی نماز میں تکبیرات زوائد کا اضافہ بھی لازم ہے جو جمعہ کی نماز میں نہیں ہوتی ہے اور جمعہ کی نماز میں خطبہ واجب ہوتا ہے اور نماز سے پہلے ہوتا ہے اور عید کی نماز میں خطبہ واجب نہیں ہوتا ہے بلکہ سنت ہوتا ہے اور نماز کے بعد ہی ہوتا ہے۔
اب اس تمہید کے بعد امسال عید کی نماز کے بارے میں حسب ذیل گزارشات ہیں۔
عید کی نماز کے اعتبار سے امسال مسلمان دو قسموں پر نظر آ رہے ہیں:
1: وہ مسلمان جو کسی بھی درجہ میں چند افراد کے ساتھ عید کی نماز کے شرائط و واجبات کی رعایت کرتے ہوئے عید کی نماز ادا کرسکیں گے اور ایسے لوگ کروڑوں مسلمانوں میں سے بہت ہی کم تعداد میں ہونگے؛کیونکہ کروڑوں مسلمانوں میں سے پانچ دس فیصد بھی ایسے مسلمان مشکل سے ہونگے جو عید کی نماز میں امامت کر سکیں گے،
نیز حکومت کی طرف سے ایسی۔‌ پابندیاں اور سختیاں جاری ہیں کہ جن کی وجہ سے ایک امام کے پیچھے محلہ کے دس، بیس، پچاس آدمی اکٹھا ہو کر نماز نہیں پڑھ سکتے،
اور ایک ایک محلہ میں نماز پڑھنے والے سینکڑوں اور ہزاروں کی تعداد میں ہوتے ہیں اور ہزار میں سے امامت کرنے کی ہمت ایک دو کو بھی مشکل سے ہوتی ہے،
اگر حکومت کی پابندی کی رعایت کی جائے تو پانچ ہزار میں سے ایک ہزار امامت کرنے والوں کی تعداد ہونی چاہیے اور یہ ممکن دکھائی نہیں دیتا؛
اس لیے امسال کتب فقہ کی تصریحات کے مطابق عید کی نماز اپنے شرائط کے مطابق ادا کرنے والے مسلمانوں کی تعداد بہت کم ہوگی۔
دوسری قسم: ملک کے طول عرض میں وہ مسلمان نظر آرہے ہیں جو کسی بھی امام کے پیچھے عید کی نماز ادا نہیں کر پائیں گے ایسے لوگوں کی تعداد پورے ملک کے اندر 60، 70 فیصد سے کم نہیں ہوگی۔
ایسے مسلمان جو شہروں اور قصبات میں رہتے ہیں اور خود عید کی نماز پڑھنے اور پڑھانے پر قادر نہیں ہیں مگر عید کی نماز کے لیے‌ شوق اور آرزو رکھتے ہیں،ان کے لیے شریعت کا کیا حکم ہوگا ؟
یہ لوگ عید کی نماز کیسے پڑھیں گے اور کیسے پڑھائیں گے؟
اور اگر ایک جگہ چار پانچ آدمی اکھٹا ہونے پر بھی قادر ہوں اور شرائط بھی موجود ہوں لیکن ان کو نماز پڑھانے والا کوئی نہ ہو چونکہ عید کا دن سال بھر میں ایک مرتبہ آتا ہے اور جو مسلمان کبھی کوئی جمعہ بھی نہ پڑھتا ہو وہ بھی عید کی نماز پڑھنے کی کوشش کرتا ہے اور عید کی نماز فوت ہوجانے پر اپنے آپ کو بہت بڑا محروم سمجھتا ہے،تو ایسے لوگوں کے لئے امسال مسئلہ کا حل کیا ہوگا ؟
تو ایسے مسلمانوں کے بارے میں گزارش یہ ہے کہ وہ ہرگز غمزدہ نہ ہوں ،فقہاء کی تصریحات کے مطابق وہ عید کے دن عید کی نماز کے اوقات کے اندر چار رکعت یا دو رکعت نفل نماز پڑھ لیں اور اللہ سے ثواب کی امید رکھیں !
اور بعض روایات میں مخصوص سورتوں کے ساتھ چار رکعت پڑھنے پر عظیم ترین اجر وثواب کا وعدہ بھی مذکور ہے، جس کی تصریح کتب فقہ میں ہے۔
اور چار رکعت کے بارے میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت صراحت کے ساتھ موجود ہے اور یہ چار رکعت اگرچہ نفل ہونگی مگر امسال کے حالات کی مجبوری کے بناء پر ان کا ثواب انشاءاللہ عید کی نماز سے کم نہیں ہوگا،

خلاصہ :
1: عید کی نماز جو لوگ بغیر روک ٹوک کے کسی امام کے پیچھے پڑھنے پر قادر ہوں اور عید کی شرائط بھی پوری ہوں ان کے اوپر عید کی نماز پڑھنا واجب ہے۔
عید کی نماز واجب ہے اور خطبہ دینا مسنون ہے لہذا اگر کہیں عید کی نماز ادا کرنے کے لیے سارے اسباب موجود ہوں اور نماز پڑھانے والا بھی موجود ہو لیکن خطبہ دینے پر قادر نہ ہو تو ایسی صورت میں بھی عید کی نماز پڑھنا ان پر واجب ہے کیونکہ بغیر خطبہ کے بھی عید کی نماز صحیح ہو جاتی ہے۔
3 : جہاں لوگ بغیر روک ٹوک کے عید کی نماز اپنی شرائط کے ساتھ ادا کر سکتے ہوں لیکن نماز پڑھانے والا کوئی نہ ہو تو ایسے لوگوں پر امسال کی موجودہ حالات میں عید کی نماز واجب نہیں ہوگی،بلکہ ایسے لوگوں سے عید کی نماز معاف ہو جائے گی۔
اور چاشت کی نماز کی طرح چار رکعت نماز پڑھنا ان کے لیے مستحب اور باعث اجر ثواب ہوگا –
4: جہاں کے لوگوں کو عید کی نماز کے لیے کسی طرح کی سہولت میسر نہ ہو اور وہ اپنے اپنے گھروں میں ایک ایک دو دو يا تین تین مرد ہی ہوپائيں اور کسی طرح سے بھی نماز عید کی صحت کے لیےتعداد کو پوری نہ کر سکيں اگرچہ ان میں نماز پڑھانے کی صلاحیت ہی کیوں نہ ہو،
تو ایسے لوگوں کے اوپر سے بھی تعداد پوری نہ ہونے کی وجہ سے عید کی نماز کا وجوب ساقط ہو جائے گا اس لیے کہ عید کی نماز صحیح ہونے کے لئے امام کے علاوہ کم سے کم تین آدمی کا ہونا لازم ہے۔
اور یہ لوگ بھی تنہا تنہا چار رکعت نفل نماز چاشت کی طرح ادا کریں گے اور ان کو بھی انشاء اللہ پورا ثواب ملنے کی امید ہے۔
5: جن کو عید کی نماز ادا کرنے کے لیے تعداد کی شرط حاصل تو ہو لیکن ان میں کوئی عید کی نماز پڑھانے والا نہ ہو،تو ایسے لوگوں کے اوپر سے بھی عید کی نماز پڑھنا معاف ہوجائے گا اور یہ لوگ بھی اپنی اپنی رہائش گاہوں میں تنہا تنہا چاشت کی نماز کے مثل چار رکعت نفل ادا کریں گے ان کو بھی انشاءاللہ پورا ثواب ملے گا۔

6: ایسے لوگ جن میں صحت عید کے لئے افراد کی تعداد پوری ہو اور نماز پڑھانے والا بھی ہو مگر جس جگہ پر يہ لوگ ہیں وہ جگہ جمعہ اور عیدین کی صحت کے لیے شرائط پوری نہیں کرسکتی ان کے یہاں زنان خانے کے علاوہ ایسے باہری کمرہ یا بیٹھک بھی نہيں ہيں جس میں اذن عام ہو اور اڑوس پڑوس کے لوگ آ جا سکتے ہوں، اور نہ ہی یہ لوگ سرکاری پابندی کی وجہ سے اڑوس پڑوس میں جاکر عید کی نماز ادا کرسکتے ہوں
تو ایسے لوگوں پر سے بھی عید کی نماز معاف ہوجائے گی اور یہ لوگ بھی بجائے عید کی نماز کے چاشت کی نماز کے مثل چار رکعت نفل ادا کریں گے،ان کو بھی انشاءاللہ پورا ثواب ملنے کی امید ہے۔

7: اگر کوئی چار رکعت نہ پڑھ کر دو رکعت نفل پڑھنا چاہتا ہے تو اس کے لیے صرف دو رکعت نفل پڑھنے کی بھی گنجائش ہے۔

8: یہ نوافل مستحب ہیں واجب اور لازم نہیں ہے لیکن اللہ سے موجودہ حالت میں اجر ثواب کی پوری امید ہے۔
فقط والله أعلم

بشکريہ ۔۔۔۔۔۔۔مفتی شبیر احمد قاسمی۔۔۔۔۔۔۔۔
خادم الافتاء و الحدیث جامعہ قاسمیہ مدرسہ شاہی مرادآباد

 

sidhirah

I am Naseh Anwaar Nadwi, Islmaic Scholar at Madarsa Tajweedul Qur'an Khairwa Bihar, Youtuber, and founder of Sidhi Rah.com This is a digital islamic Library, in which we upload islamic videos and audios and books, so that people could get good things very easily.

جواب دیں