داڑھی،مونچھ،اسلام اورجوانمردی

داڑھی،مونچھ،اسلام اورجوانمردی

داڑھی تمام انبیائے کرام علیہم الصلوات والتسلیمات کی سنت، مسلمانوں کا قومی شعار اور  مرد کی فطری اور طبعی چیزوں میں سے ہے، ا سی لیے رسول اللہ ﷺ نے اس شعار کو اپنانے کے لیے اپنی امت کو ہدایات دی ہیں اور اس کے رکھنے کا  حکم دیا ہے ، آنحضرت کے بعد چاروں خلفائے راشدین اورصحابہ کرام کے علاوہ تبع تابعین نے بھی داڑھی کو مرد کا زیور اور اسلامی شعار قرار دے کر خود بھی داڑھیاں رکھیں اور عام مسلمانوں کو بھی داڑھی رکھنے کا حکم دیا ،
اس لیے  جمہور علمائے امت کے نزدیک داڑھی رکھنا واجب اور اس کو منڈوانا يا کترواکر ایک مشت سےکم کرنا  حرام ہے اور کبیرہ گناہ ہے۔اور اس کامرتکب فاسق اور گناہ گار ہے؛
اسلام میں داڑھی کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتاہے کہ جو حافظ صاحب داڑھی منڈاتے ہیں يا کترواکر شرعی مقدار سے کم رکھتے ہیں ان کی اقتداء میں تراویح کی نماز بھی مکروہ تحریمی اور عملاً حرام ہے اور بعض حافظ صاحب جو صرف رمضان میں داڑھی رکھ ليتے ہیں اور بعد میں اس کا صفايا کراديتے ہیں انکے بارے ميں بھی يہی حکم ہے، ايسے شخص کو فرض نماز اور تراویح میں امام بنانے والے بھی فاسق و گناہگار ہيں؛

داڑھی اور مونچھ جہاں اسلامی شعار ہیں وہيں مردانگی کی علامت بھی ہیں ،اسلام نے مونچھوں کو کاٹنے کا حکم دیا
تاکہ مونچھ کے بال پانی میں نہ ڈوبيں ليکن مونچھیں منڈوانے سے منع کیا کیونکہ مونچھیں منڈوانے سے نامردی آتی ہے ،بقول اطباء و حکماء : داڑھی کے بالوں میں قوت مردانگی ہوتی ہے ، بلفظ ديگر :داڑھی کا تعلق مرد کی قوت مردانگی اور مادہ منويہ سے ہوتا ہے ، يہی وجہ ہے کہ عورتوں ، نابالغ بچوں اور ہيجڑوں کے چہروں پر داڑھی نہیں آتی، بلکہ اگر کسی مرد کو داڑھی ہو اور اس کے فوطے نکال دئے جائيں تو اس کی داڑھی بھی خود بخود جھڑجاتی ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ داڑھی کا تعلق مرد کی قوت مردانگی سے ہے؛ 
خلاصہ یہ کہ داڑھی مسلمان کی شان اور مرد کی اصل پہچان ہے ليکن افسوس صد افسوس کہ سیکولر میڈیا کی فحاشی‘ بے حیائی اور فطرتِ انسانی کو مسخ کرنے کی یلغار نےنوجوان نسل کو داڑھی اور اسلام شعار سے صرف متنفر ہی نہیں کیا بلکہ انہیں اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے کہ اب مرد داڑھی منڈانے کے علاوہ ہاتھوں میں کڑے کانوں میں بندے اور سر پر چوٹياں لٹکائے پھرتے ہیں تو وہيں عورتیں مردوں جيسے لباس يا نيم برہنہ لباس اور ہئر اسٹائل میں درانہ وار گھومتی نظر آتی ہیں ؛ 
يہ فطرت سے بغاوت نہیں تو اور کیا ہے ؟
يہ قانون قدرت کا مزاق نہیں تو اور کیا ہے ؟
يہ نظام الہی سے سرکشی نہیں تو اور کیا ہے ؟
خدارا اب بھی وقت ہے سنبھل جاؤ، اور حقیقی معنوں میں مرد بنو ، مخلوق کی رضا کے لئے خالق کو ناراض کرنے کی حماقت نہ کرو ،مردانگی يہ نہیں ہے کہ نفسانی خواہشات، رسم ورواج اور ماحول سے مرعوب ہوکر قدرت کی عطا کردہ زينت کو بدنمائی ميں تبديل کردیا جائے،

مردانگی يہ نہیں کہ عياشی اور آوارگی کو ”فيشن” کے نام پر اختيار کياجائے اور سادگی و صالحيت کو "قدامت پسندی” کا طعنہ ديکر چھوڑدیا جائے،

مردانگی يہ نہیں کہ نفس أمارہ کی ہر صدا پر "لبئيک”کہا جائے اور نفس لوامہ سے بالکل بے زاری و بےاعتنائی برتی جائے،
مردانگی يہ نہيں ہے کہ ہر کمزور پر ظلم کیا جائے اور ہر طاقتور کو خدا سمجھا جائے، يہ مردانگی نہیں بلکہ جہالت ہے اور ایسے لوگ مرد نہیں بلکہ مرد کے بھیس میں کچھ اور ہی ہیں۔

کیونکہ بقولِ علامہ اقبال ؒ:

وہ مرد مجاہد نظر آتا نہیں مجھ کو
ہو جس کے رگ و پے میں فقط مستی کردار​

اور بزبان شاعر انقلاب جوش مليح آبادی:

اہل عالم کی نظر میں محترم ہوتا نہيں
مرد جب تک صاحب سيف وقلم هوتا نہیں

سيف کا دامن تو ہے اک عمر سے چھوٹا ہوا
اور قلم ہے ایک وہ بھی خير سے ٹوٹا ہوا

فکر ناقص کو تيرے سرمایۂ تخليق دے
کاش دنیا مرد بننے کی تجھے توفیق دے-

sidhirah

I am Naseh Anwaar Nadwi, Islmaic Scholar at Madarsa Tajweedul Qur'an Khairwa Bihar, Youtuber, and founder of Sidhi Rah.com This is a digital islamic Library, in which we upload islamic videos and audios and books, so that people could get good things very easily.

جواب دیں