سنت ابراہیمی اور فرمان رسول ﷺ

سنت ابراہیمی اور فرمان رسول ﷺ

  اس دنيائے رنگ و بو میں جتنے بھی مذاہب اور ان کے ماننے والے ہیں، تقريبا سبھی کے سبھی اپنے اپنے اعتقادات و نظريات کے حساب سے اپنے اپنے معبودوں کی رضامندی و خوشنودی کے حصول کے لئے اپنے تئيں ہر ممکن جتن و کوشش کرتے ہیں ، اور انکے تقرب کے لئے جانی و مالی قربانیوں سے بھی دريغ نہیں کرتے، مثلاً برادرانِ وطن کے نذدیک بھگوان سے تقرب حاصل کرنے کا ذریعہ یہ ہے کہ وہ چڑھا وا چڑھائيں،پوجا ارچنا کريں، مزید قربانی اور نذر ونیاز بھی ديں، لیکن نذر ونیاز دینے کا طریقہ کار الگ ہے، یہ لوگ بھی اپنے بھگوان کو راضی کر نے کے لیےکسی نہ کسی طور پربھينسوں، بکروں ، کبوتروں اور ديگر چرند و پرند کی قربانی الگ الگ شکل میں پیش کرتے ہیں ، اورایک ہی جھٹکے میں سر کو تن سے جدا کر دیتے ہیں 

مذہب اسلام

لیکن اس عالم فانی میں ایک اور مذہب ہے جوتمام مذہبوں کےاصول وظوابط سے بالکل الگ تھلگ ہے. جو اسلام کے نام سے مشہور و معروف ہے اور یہی حقیقی دین ہے،  اس میں بھی اللہ سے تقرب حاصل کرنے کا ذریعہ ہے، اور کئی طریقے سے تقرب حاصل کیا جاسکتا ہے، ان میں سے پہلا طریقہ نماز کا ہے ، اور یہ اہم اور بنیادی رکن اسلام کا ہے ، جیساکہ حدیث شریف میں اس کو جان بوجھ کر چھوڑ نے پر کفر جیسا عمل کہا ہے
(من ترك الصلاة متعمدا فقد كفر،

روز محشر کہ جاں گداز بود
اوليں پرشش نماز بود

اسی طرح اسلام میں اور بھی چیزیں ہیں جن سے تقرب اور قربت حاصل کیا جاسکتا ہے جیسے نوافل اور قیام اللیل ہے اور اس کی دلیل خود قرآن پاک میں موجود ہے (ياايهاالمزمل، قم الليل الا قليلا، نصفه اونقص منہ قلیلا،ورتل القرآن ترتیلا() اسی طرح اور بھی اسلام میں عمل ہیں جن کے ذریعے سے تقرب حاصل کیا جاسکتا ہے.
اور ان سب کے باوجود اسلام میں ایک اور طریقہ ہے جسکے ذریعے ہم لوگ سال میں ایک مرتبہ اللہ کی راہ میں قربانی پیش کرتے ہیں، در اصل یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ابتلاء وآزمائش کا ثمرہ ہے جس میں انہوں نے اپنے لاڈلے، چہیتے اور اکلوتے لڑکے تک کو محبوب حقيقی کے خوشنودی کی خاطر قربان کر نے کے لیے تیار ہو گئے تھے،اور باپ نے اپنے لخت جگر سے اللہ کا حکم سناکر اجازت و رائے بھی لی تھی ،
کہا:-
(يبني اني اراك في المنام اني اذبحك فانظر ماذا تري )
اور خوش بخت و با سعيد بیٹے نے بھی بے جھجھک يوں جواب ديا:-
(يابت افعل ما تؤمر ستجد ني ان انشاء الله من الصابرين ))
اللہ تبارک و تعالٰی نے اس جذبہء جانثاری کے سبب انہیں ذبح عظیم کے لقب سے سرفراز فرمایا ، اور ان کے والد محترم کو خلیل اللہ کے لقب سے ملقب فرمایا، اوراور تاقيامت اپنے نام ليواؤں کے لئے سنت ابراھيمی کی پيروی کو لازمی قرار دیا ،

اللہ تبارک و تعالٰی نے انہیں کی نسل میں سے سب سے معزز ومکرم اور سب سے افضل رسول مبعوث فرمایا جو کہ رسولوں کے سردار ہیں، اور اس سلسلے میں رسول الله صلى الله عليه وسلم کا فرمان ہے، جب صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے آپ سے سوال کیا  
اے اللہ کے نبی یہ قربانی کیا ہے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا یہ تمہارے والد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے، اور آپ نے مزید کہا کہ ہر بال کے بدلے ایک نیکی ہے اور قرآن پاک میں خود اسکا حکم موجود ہے
(فصل لربك وانحر، ان شانئك هو الابتر، سورة الكوثر) ……
اور اخیر میں ایک اور بات لکھ کر اپنی بات کو پایہ تکمیل تک پہونچاتا ہوں ، کہ ایام قربانی میں قربانی سے بڑھکر کوئی عمل نہیں ہے اور حضور ﷺ کی حدیث شریف خود اس پر دال ہے ،

عَنْ السَّيِّدَةِ عَائِشَةَ رضي الله عنها أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا عَمِلَ آدَمِيٌّ مِنْ عَمَلٍ يَوْمَ النَّحْرِ أَحَبَّ إِلَى اللَّهِ مِنْ إِهْرَاقِ الدَّمِ، إِنَّهُ لَيَأْتِي يَوْمَ القِيَامَةِ بِقُرُونِهَا وَأَشْعَارِهَا وَأَظْلَافِهَا، وَأَنَّ الدَّمَ لَيَقَعُ مِنَ اللَّهِ بِمَكَانٍ قَبْلَ أَنْ يَقَعَ مِنَ الأَرْضِ، فَطِيبُوا بِهَا نَفْسًا»
(سنن ابن ماجة:٦٢١٣، ترمذي شريف:٣٩٤١)
ترجمہ👇
قربانی کے دن خون بہانے سے زیادہ اللہ کے نزدیک کوئی عمل قابل محمود نہیں ہے ،اور کل قیامت کے دن یہ جانور اپنے سینگوں، بالوں، اور کھروں کے ساتھ آئییگا، اور زمین پر گرنے سے پہلے ہی اللہ کے یہاں مقبولیت کا درجہ پالیتا ہے اس لیے خوش دلی سے قربانی کیا کرو .
لہذا ہميں چاہئے کہ اپنی نیتوں کو پاک و صاف کر کے خدا کے حضور قربانی پيش کريں اور ساتھ يہ دعا بھی کريں کہ اللہ ہم لوگوں کی قربانیوں کو شرف قبوليت عطا فرمائے ………….. آمین

میری زندگی کا مقصد تيرے دیں کی سرفرازی

میں اسی لئے مسلماں میں اسی لئے نمازی

تحریر :ابو طالب بن افروز ندوی مرزاپوری

sidhirah

I am Naseh Anwaar Nadwi, Islmaic Scholar at Madarsa Tajweedul Qur'an Khairwa Bihar, Youtuber, and founder of Sidhi Rah.com This is a digital islamic Library, in which we upload islamic videos and audios and books, so that people could get good things very easily.

جواب دیں