صفورا زرگر
safura zargar

صفورا زرگر

 بات ہے سنہ1993 کی جب جموں وکشمیر کے ایک سر سبز و شاداب علاقے "کشتواڑ” میں ایک سرکاری ملازم صابرحسين زرگر کے يہاں ایک پياری سی بچی کا تولد ہوا، جس کو "صفورا زرگر” کا نام ملا؛
چونکہ والد سرکاری ملازمت سے وابستہ تھے اس لئے مختلف جگہوں میں تقرری ہوتی رہی، بالآخر ملک کے کئی مقامات میں خدمات انجام دیتے جب "غالب کا شہر”اور”ہندوستان کا دل” کہے جانے والے راجدھانی دہلی میں تقرری ہوئی تو "جنت نشاں” کشمیر کی لالہ زاروں ، مرغزاروں، کوہساروں اور واديوں کو ہميشہ ہميش کے لئے الوداع کہہ کر مع اہل خانہ کے يہيں کے ہوکر رہ گئے ؛
يہاں انہوں نے اپنی معصوم سی پانچ سالہ بچی کا داخلہ ایک اسکول میں کرايا جہاں سوئے اتفاق مسلم بچے بچيوں کی تعداد بالکل نہ کے برابر تھی ، اور کلاسوں کی تو بات کیا خود اپنے کلاس میں وہ تنہا مسلم بچی تھی اور "سونے پہ سہاگا”يہ کہ کشمیری النسل تھی جس کی بناء پر اسے "تم دہشتگرد ہو”اور "پاکستان واپس جاؤ” جيسے چبھتے جملے اور پھبتياں سننے کو ملتيں، جس کے نتيجے میں "وطن پرستی”ديش بھگتی”دہشتگردی” اور "غداری” جيسی بہت سی اصطلاحات سے خوب اچھی طرح اور بہت پہلے واقفيت ہوگئی ، لہذا حب الوطنی اور اپنے جذبہء صادق کو ثابت کرنے کا ايک جنون سا لڑکپن ہی سے دل میں گھر کرگيا، جس کی بناء پر حق گوئی، بے باکی،ايثار و قربانی،ہمدردی و غمگساری،مظلوم کی مدد اور ظلم کے آگے سينہ سپر ہونے کی عادت فطرت ثانيہ اور اس کی پہچان سی بنتی چلی گئی؛

پھر اس نے "جيزز اينڈ ميری کالج” سے بی.اے”دہلی يونيورسٹی”سے ايم.اے اور”جامعہ مليہ اسلامیہ”سے ايم۔ فل کی ڈگری حاصل کی؛
دوران تعلیم ہی6 اکتوبر 2018 کو آبائی وطن”کشتواڑ” ميں "صبور احمد سروال” سے شادی ہوئی،حاصل کی؛
،جامعہ مليہ میں "طالب علم کارکن رہنما”اور رابطہ کمیٹی کے میڈیا ونگ ممبر کی حيثيت سے بھی رہيں
اواخر دسمبر 2019 سے "شاہين باغ” اور ديگر جگہوں پراين.آر.سی اور سی.اے.اے کو دستور ہند کے خلاف اور ملکی سالميت کے لئے خطرہ جان کر احتجاجی جلسوں، ریليوں،دھرنوں اور مظاہروں میں بھرپور انداز ميں شرکت کرتی رہيں اور ارباب حکومت کو بے خوف و خطر آئينہ دکھاتی رہيں،
اخيرکار وہی ہوا جو فرعون ،ونمروداور ہٹلر جيسے ظالم و جابر کے آگے حق گوئی اور ان کو کھڑی کھوٹی سنانے میں ہوتا ہے؛
ابتدائی طور پر دہلی پولیس نے 10 اپریل کو تقريبا 27 برس کی حق گو و حق شناس "صفورا زرگر” کو اس کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا ،اور یہ دعوی کیا کہ وہ 23، 22 فروری کو جعفرآباد میٹرو اسٹیشن دہلی میں سی.اے.اے کے خلاف احتجاج اور سڑک ناکہ بندی کرنے والوں میں شامل تھی۔
اپریل کو اسے میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ کے سامنے لایا گیا اور دو دن کے لئے پولیس تحویل میں لیا گیا۔
تيرہ اپریل کو اسے ضمانت مل گئی ، لیکن پولیس نے ایک اور الزام میں فورا ہی اسے دوبارہ گرفتار کرلیا۔
اس کے خلاف 20 یا 21 اپریل کو اضافی الزامات عائد کیے گئے ۔
دہلی پولیس نے کہا ہے کہ "دہلی فسادات کی سازش رچنے میں يہ بھی شامل تھی اور تمام گرفتاریاں سائنسی اور فارنسک شواہد کی بنا پر کی گئیں ہيں”۔ صفورا پر غیر قانونی سرگرمیاں روک تھام ایکٹ (يو.اے.پی.اے) کے تحت بھی الزام عائد کیا ،گیا ہے جو کہ ناقابل ضمانت الزام هے 
تا وقت تحریر "صفورا زرگر” کئی مہينوں کی حاملہ اور بے قصور ہونے کے باوجود تہاڑ جيل میں قيد و بند کی صعوبتیں -برداشت کر رہی ہیں ،اور حاکم وقت و حاکم مطلق دونوں ہی کی عدالت سے فيصلہ کا انتظار کر رہی ہیں

صفورا  زرگر کی حق گوئی وبے باکی

صفورا   زرگر  پر اين.ڈی ٹی وی کے روش کمار کی رپورٹ

sidhirah

I am Naseh Anwaar Nadwi, Islmaic Scholar at Madarsa Tajweedul Qur'an Khairwa Bihar, Youtuber, and founder of Sidhi Rah.com This is a digital islamic Library, in which we upload islamic videos and audios and books, so that people could get good things very easily.

جواب دیں