مدرسہ تجویدالقرآن خیروا کا تعارف

مدرسہ تجویدالقرآن خیروا کا تعارف

مدرسہ کیا ہے؟

مدرسہ ایک ایسی  جگہ ہوتی ہےجہاں آدم گری اور مردم سازی کا کام ہوتا ہے،جہاں دین کے داعی اور اسلام کے سپاہی تیار کیے جاتے ہیں،مدرسہ اسلامی معاشرے کا بجلی گھر (پاور ہاؤس) ھے  جہاں سے اسلامی آبادی بلکہ انسانی آبادی میں بجلی تقسیم ہوتی ھے ،غرضیکہ مدرسہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں سادہ لوح بچوں کو علم وہنر’ تہذیب وثقافت’ سلیقہ و ہنر مندی کے جوہر سے آراستہ و پیراستہ کرکے حقیقی معنوں میں  بہترین و مکمل  مؤمن انسان،اورانسان دوست و امن پسند شہری بنانے کی سعی مسعود کی جاتی ہے،ایسے ہی بےشمار اور انگنت مدرسوں میں ایک نمایاں نام “مدرسہ تجوید القرآن خیروا”کا بھی ھے؛

وجہ تأسیس:- ھندوستان میں صوبہ بہار کے ضلع مشرقی چمپارن کے ایک دور افتادہ علاقے میں “خیروا”نامی ایک مسلم اکثریتی گاؤں تھا جو ہر خاص و عام کے نزدیک”خیروا درگاہ”کے نام سے مشہور تھا،جو کہ جہالت و بے علمی،شراب خوری وبددینی اور بدعات وخرافات میں اپنی مثال آپ تھا، پھر رحمت باری یوں متوجہ ہوئی کہ اسی گاؤں کے زمیندار خاندان کے ایک چشم و چراغ جناب انجینئر عبدالرحمن صاحب کو سعودی عرب کے شہر جدہ میں ایک اعلیٰ عہدہ پر فائز فرمایا؛  

قیام جدہ کے دوران جناب انجینئر صاحب کو عربوں اور عربی سے واسطہ پڑا، وہاں کے ایمانی و روحانی ماحول ومعاشرے میں رہنے سہنے اور قرآن کریم کو بہترین لب ولہجے اور اچھوتےانداز میں سننے کا موقع ملا، نتیجتاً دل میں یہ داعیہ پیدا ہوا کہ مادر وطن ہندوستان خصوصاً اپنے علاقے میں کوئی ایسا انتظام وانصرام کیا جائے کہ جس کی بناء پر ماہرین حفاظ کرام اور قراء عظام کی کھیپ تیار ھو سکے تاکہ مادر وطن میں بھی لوگ اچھے اور بہتر انداز میں تلاوت قرآن پر قادر ہوسکیں؛
بس اسی نیت اور ارادے سے اپنے ھی گاؤں میں اپنی ھی زمین پر گاؤں کے ایک جید عالم دین جناب حضرت مولانا سعید اللہ صاحب مظاہری کے ساتھ آپ نے ایک مکتب کی بنیاد ڈالی؛ اور بلا شبہ یہ فضل خداوندی اور بانی محترم و مدرسین اولین کے ایثار و قربانی اور محنت ولگن کا ہی ثمرہ تھا کہ شدہ شدہ ایک گمنام بستی کا یہ چھوٹا سا مکتب سنہ١٩٨٢ء تک ایک عالیشان  مدرسہ کیشکلاختیار کر گیا۔
تعارف:-بحمداللہ تعالیٰ تاوقت تحریر یہ ادارہ بزرگانِ دین اور بانی معظم و مایہ ناز معلمین ومربیین کے پرخلوص محنتوں و کاوشوں کی بناء پر ہندوستان کے بےشمار مدارس میں حفظ قرآن کی عمدہ تکنیک،لب ولہجہ کی انفرادیت اور تجوید کی کماحقہ رعایت کی بنیاد پر ایک مرکزی و مثالی ادارہ کا حامل ہوکر مقبول خاص و عام ہوچکا ہے، لہٰذا ہر سال ملک کے اطراف و اکناف سے سیکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں کی تعداد میں طالبان علومِ دینیہ و قرآنیہ داخلہ کے لئے آتے ہیں اور فیضیاب ہوتے ہیں؛
یہی وجہ ہے کہ اس ادارہ کے فیض یافتگان کثیر تعداد میں ملک وبیرون ملک علومِ دینیہ و خدمات قرآنیہ میں مشغول و مصروف نظر آتے ہیں، اور انہیں نہایت قدر و منزلت کی نظروں سے بھی دیکھا جاتا ہے۔
گزارش:- “مدرسہ تجوید القرآن خیروا “درجات اطفال ،دینیات،شعبہ ناظرہ اور حفظ و قرأت پر مشتمل ایک خالص دینی،اسلامی اور روحانی ادارہ ہے جسکا حکومت سے کسی بھی طرح کا کوئی الحاق نہیں ہے، اسکا تمام تر مالیاتی انحصار و دار ومدارتوکل علی اللہ اور عام مسلمانوں کے تعاون پر ہے، لہذا آپ حضرات دامے ،درمے،سخنے اور ہر ممکنہ طور پر ادارہ کا تعاون فرمائیں اور عنداللہ ماجور ہوں

 

sidhirah

I am Naseh Anwaar Nadwi, Islmaic Scholar at Madarsa Tajweedul Qur'an Khairwa Bihar, Youtuber, and founder of Sidhi Rah.com This is a digital islamic Library, in which we upload islamic videos and audios and books, so that people could get good things very easily.

جواب دیں