انمول نعمت

انمول نعمت

خالق ارض و سماء نے ہمیں اتنی ساری نعمتوں سے نوازا کہ اگر ہم کہيں کہ انکی نعمتیں ہم پر ہر آن و ہر لمحہ بالتسلسل بارش کی طرح برستی رہتی ہیں تو بے جا نہ ہوگا چونکہ ہمارے پھيپھڑوں میں جانے والی ہر سانس اور ہمارے دلوں کی ہر ایک دھڑکن خدا کی نعمت ہے،

اور انہیں بے شمار و انگنت نعمتوں میں سے ایک بيش بہا و انمول نعمت ايسی ہے جس کی عصر حاضر میں عمومی طور پر ناقدری کی جاتی ہے، جبکہ اس کی قدردانی اور عظمت و تقدس کے اعتراف کو جزو ایمانی اور حصول جنت کا ضامن قرار ديا گیا ہے،

جس کے ہونے نہ ہونے سے انسان کے ذہنی، جسمانی اور معاشرتی پرورش و پرداخت اور نشو و نما میں محض فرق ہی نہيں پڑتا بلکہ انسان کے وجود و عدم کا انحصار ہی اس نعمت کی مرہونِ منّت ہے ،جسے ہم "والدین” يا "ماں باپ" کے نام سے جانتے ہیں ،

والدین کی فضیلت

يہی وہ برگزیدہ ہستياں ہیں جو ہمارے راحت و آرام کی خاطر ہنسی خوشی اپنے راحت و آرام کو تج دیتے ہیں ،
ہماری شکم سيری و آسودگی کے لئے خود کے پيٹ پر گر پتھر بھی باندھنے پڑيں تو ایک لمحہ تک کے لئے بھی نہیں ہچکچاتے ،
ہمارے بہترین مستقبل کے لئے برضا و رغبت اپنے حال کی قربانی دے ديتے ہیں ،
يہی وہ ہستياں جن پر لڑکپن میں ہم بڑے حق کے ساتھ اپنا حق جتاتے اور بڑپپن میں بڑی بے رخی سے اپنا پلہ جھاڑليتے ہیں ،
جی ہاں! يہی وہ ہستياں ہیں جنہيں ہم اپنی صغر سنی میں معين و مددگار ، ناصح و خير خواہ اور بعد میں انکی کبر سنی میں جی کا جنجال اور دھرتی کا بوجھ تصور کرتے ہیں ،
اور حد تو یہ ہے کہ کچھ حرماں نصیب انہیں انکے خوابوں کے گلستاں سے بے دخل کرنے کا جرم عظيم تک کر بيٹھتے ہیں اور بہت ہوا تو "وردھا آشرم” کے رحم و کرم پر چھوڑ جاتے ہیں ،

 حالانکہ يہ وہ عظيم ہستياں ہیں جنکی اطاعت رب کی اطاعت اور جنکی نافرمانی رب کی نافرمانی کے برابر گردانی گئی ہے (طبرانی)؛

باپ کا مقام و مرتبہ بيان کرتے ہوئے حضور صلي الله عليه وسلم نے فرمایا : باپ جنت کے دروازوں میں سے بیچ کا دروازہ ہے اگر تو چاہے تو اس دروازے کی حفاظت کر یا اس کو ضائع کردے؛

اور ماں کی عظمت میں فرمایا : ماں کے قدموں تلے جنت ہے ؛(حديث)

قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے اپنی اطاعت و فرمانبرداری کے ساتھ ساتھ والدین کی اطاعت و فرمانبرداری کا بھی حکم دیا ہے اور کہا ہے کہ اگر تمہارے والدین خدانخواستہ مشرک و کافر ہوں اور تمہیں بھی کفر وشرک پر آمادہ کریں تو انکی اس بات کو تو نہ مانو

ليکن انکے ساتھ اس بات کے علاوہ باقی ہر جائز معاملہ میں اطاعت و فرمانبرداری، محبت و صلہ رحمی کا برتاؤ کرو، کيونکہ انکے تم پر بڑے احسانات ہیں کہ اگر تم چاہو بھی تو انکے احسانات کے ادنی سے حصہ کا بھی بدلہ نہیں چکا سکتے (خلاصئہ احکام قرآن)

آيات قرآنيہ ، احادیث نبويہ اور اقوالِ اسلاف سے والدین کے تعلق میں جتنی باتیں بھی وارد ہیں ان سب کا خلاصہ اور لب لباب یہ ہے کہ والدین کے وجود مسعود کو غنيمت جانتے ہوئے صحيح معنوں میں انکی قدردانی کی جائے ،

انکی خدمت گزاری کو فرض منصبی سمجھ کر انجام دیا جائے،

انکے ساتھ حسن سلوک اور اچھا برتاؤ کيا جائے

جس طرح انہوں نے ہماری صغر سنی میں ہميں نان و نفقہ اور ہر دنيوی جھميلے سے محفوظ رکھا اسی طرح بلکہ اس سے بھی بڑھ کر انکی کبر سنی میں انہيں آرام پہونچایا جائے،

انکے رفقاء و ہم عصروں اور ان سے منسلک ہر رشتہ و ناطے کا احترام اور پاس و لحاظ کیا جائے ،

ہميشہ انکے حق میں دعائے خير کی جائے ،

اللہ تعالی ہمیں اپنی جنت اور اس کے دروازے کی خدمت کرکے انہیں راضی کرنے کی توفیق عطا فرمائے جنہوں نے لاکھوں دکھ درد سہتے ہوئے ہمیں اللہ تعالی کے بعد پالا پوسا پڑھایا لکھایا اور اس قابل کر دیا کہ ہم دنیا میں سر اٹھاکر چل سکيں،
جن کے ماں باپ حیات ہیں اللہ تعالی ان کی اولادوں کو انکی آنکھوں کی ٹھنڈک بنا دے
اور جن کے ماں باپ دنیا سے رخصت ہو چکے ان کی مغفرت فرمائے

بلاشبہ اسلام و توحید کے بعد یہ سب سے قیمتی    اثاثہ اور انمول نعمت ہیں

ابو طالب بن افروز ندوی مرزاپوری

sidhirah

I am Naseh Anwaar Nadwi, Islmaic Scholar at Madarsa Tajweedul Qur'an Khairwa Bihar, Youtuber, and founder of Sidhi Rah.com This is a digital islamic Library, in which we upload islamic videos and audios and books, so that people could get good things very easily.

جواب دیں